ابنا: بدھ کے روز سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کے سامنے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ مولر نے سینیٹر چک گراسلی کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا امریکی سرزمین پر نگرانی کے لئے ایف بی آئی ڈرون طیاروں کا استعمال کرتی ہے؟ اس بات کا اعتراف کیا ہے۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے نگرانی کے لیے ڈرون کا استعمال کرتے ہیں۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے مطالبہ کیا کہ ملک میں ڈرون کے استعمال کے لیے قواعد و ضوابط بنائے جانے چاہییں۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق ایف بی آئی کے ڈائریکٹر مولر نے اعتراف کیا کہ پائلٹ کے بغیر اڑنے والے جہاز کا استعمال ملک کے اندر بھی ہوتا ہے اور لوگوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے قواعد و ضوابط کی اشد ضرورت ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا میں اگلے پانچ برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی بڑھ جائےگا اور 2018 تک دنیا میں تیس ہزار ڈرون طیاروں کا استعمال ہو رہا ہوگا۔ان تیس ہزار ڈرون طیاروں کا نصف صرف امریکہ میں استعمال کیا جائے گا۔رابرٹ مولر نے کہا کہ کسی خاص کیس میں نگرانی کرنے کے لیے کبھی کبھار ڈرون کا استعمال کیا جاتا ہے۔شہری حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے امریکہ میں جاسوسی کے مقاصد کے لئے ڈرون کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں ڈورن طیاروں کو جاسوسی کی اجازت دینے سے ایک جاسوسی معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں شہریوں کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے گی۔مولر نے ایف بی آئی کی جانب سے جاسوسی کارروائیوں میں ڈرون کے استعمال سے متعلق مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس بارے میں مزید شفافیت کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔واضح ہو کہ مولر نے یہ اعتراف ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب حال ہی میں امریکی جاسوسی ایجنسی سی آئی اے کے ایک سابق ایجنٹ ایڈورڈز سنوڈن نے یہ انکشاف کیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے دنیا بھر کے لوگوں کے فون، ایمیل اور سوشل سائٹس پر کی جانے والی فعالیت کی نگرنی کے لیے جاسوسی کا پروگرام چلا رہے ہیں۔...../169
19 جون 2013 - 19:30
News ID: 431780
امریکی ادارے ایف بی آئی کے ڈائرکٹر نے امریکی سرزمین پر بھی جاسوسی کارروائیوں میں ڈرون طیاروں کے استعمال کا اعتراف کیا ہے۔